car-prices-tax-cuts-auto-financing/

کیا نئی گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو جائیں گی؟

اسلا آباد : وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ٹیکسوں میں کمی کرکے متوسط طبقے کیلئے گاڑی کا حصول آسان بنا دیا ہے، جس کے تحت خریدار انتہائی کم رقم ادا کرکے اپنی نئی کار کا مالک بن سکتا ہے۔

سب سے پہلے تو ڈاؤن پیمنٹ کو 20 فیصد تک کر دیا گیا ہے، یہ وہ کم سے کم رقم ہے جو قسطوں پر کار خریدنے کے لیے کسی بھی خریدار کو ادا کرنا لازم ہے۔

اس حوالے سے گزشتہ روز وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے میڈیا کو بتایا کہ گاڑیوں خاص کر چھوٹی گاڑیوں پر حکومتی ٹیکسوں میں کمی سے ان کی قیمتیں نیچے آئی ہیں اور نئی قیمتوں کا اطلاق بھی ایک دو دن میں ہو جائے گا جس سے یہ گاڑیاں متوسط طبقے کی قوت خرید میں آجائیں گی۔

ٹیکس کی مد میں رعایت سے جو تخمینے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق 850 سی سی گاڑی کی قیمت میں سوا لاکھ تک کمی ہوگی اسی طرح اس سے اوپر ایک ہزار سی سی گاڑی کی قیمت میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ کمی واقع ہوگی۔

اس کے علاوہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے نتائج آنے لگے ہیں، چھوٹی گاڑیوں کی قیمت کم، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں کمی اور آٹو فنانسنگ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب ان تمام باتوں کے باوجود موٹر ڈیلرز نے گاڑیوں کی قیمت میں کمی نہیں کی ہے جس پر چئیرمین آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ لالچی اور مکار لوگوں نے گاڑیوں کے ریٹس کم نہیں کیے۔

ایچ ایم شہزاد نے بھی اس امکان کو مسترد کیا کہ گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی سے قیمتیں اتنی زیادہ نیچے گر جائیں گی کہ وہ موٹر سائیکل پر سواری کرنے والوں کو گاڑی کا مالک بنا دیں گی۔

انھوں نے کہا کہ اول تو موٹر سائیکل پر سواری کرنے والے کے مالی وسائل اتنے نہیں ہوتے اگر کوئی بینک سے بھی گاڑی لینا چاہے تو بلند شرح سود میں اس کے لیے مالی طور پر ممکن نہیں کہ وہ ماہانہ قسط ادا کرسکے۔

انھوں نے کہا پاکستان میں چھوٹی گاڑی دس لاکھ روپے سے زیادہ کی نہیں ہونی چاہیے لیکن لوکل اسمبلروں نے آپس میں مل کر ایسا کارٹل بنایا ہوا ہے کہ قیمتیں کم نہیں ہو رہیں۔

انہوں نے کہا کہ آٹو فنانسنگ میں اس سے دگنی ترقی ہوسکتی ہے، اس کی اہم وجوہات اسٹیٹ بینک کی نئی پالیسی اور بینکوں کی آٹو فنانس پر توجہ دینا اور شرح سود میں کمی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں